اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق بعض ذرائع نے کہا ہے کہ جبہۃالنصرہ کے ایک سینئر کمانڈر احمد ترکی اوسو کے اغوا میں داعش ملوث ہے۔اوسو اس دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوکر سینئر کمانڈر کے عہدے کے حصول سے قبل سیوف الشہباء نامی دہشت گردی ٹولے کا سرغنہ تھا۔ ان ذرائع نے کہا ہے کہ اوسو تین روز قبل حلب میں جبہۃالنصرہ کے کمانڈر سے ملنے گیا اور حبان کے راستے میں ہی لاپتہ ہوا؛ تاہم دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ جس وقت اوسو لاپتہ ہوا اسی وقت جبہۃالنصرہ کے اسلحہ کے گودام سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود چوری ہوا ہے اور روسو کے گمشدگی کے موقع پر ہی اس تنظیم کے مزید دو اہم دہشت گرد کمانڈر بھی اغوا ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ جبہۃالنصرہ نے چند روز قبل داعش کے ایک سعودی کمانڈر "عطیہ مفضی العنزی" ـ جو سالم الریمی کے کوڈ نیم سے مشہور تھا، کو قتل کیا تھا۔ تفصیل کے لئے کلک کریں:جبہۃالنصرہ نے داعش کے سعودی دہشت گرد کوقتل کردیاشام مخالف تنظیموں کو کوریج دینے والے کئی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ اوسو کو داعش نے حلب کے نواحی گاؤں میں پھانسی دے کر قتل کیا ہے لیکن سیوف الشہباء نامی دہشت گرد ٹولے نے فوری طور پر اس رپورٹ کی تردید کی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/٭۔٭
19 دسمبر 2013 - 20:30
News ID: 490114
کچھ دن پہلے النصرہ نے داعش کے ایک سعودی دہشت گرد کو گولی مار کر ہلاک کیا تھا اور اب حلب سے جبہۃالنصرہ کے کمانڈر کو اغوا کیا گیا ہے اور حکومت شام کے بعض مخالفین نے داعش پر اس کے اغوا کا الزام لگایا ہے۔